دلت طالب علم کی خودکشی کے معاملے میں اپاراؤ ہیں اہم ملزم
حیدرآباد،یکم اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)حیدرآباد یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر ویل پلا سنکترا نے آج وائس چانسلر اپاراؤ پوڈلے سے اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے سے انکار کر دیا۔سنکننااور پی ایچ ڈی طالب علم روہت ویملا اور دیگر کو گزشتہ سال یونیورسٹی کے ہاسٹل سے نکال دیا گیا تھا۔کنووکیشن کے دوران جب سنکننا کا نام پکارا گیا تب وہ اسٹیج پر گیا لیکن پوڈلے سے سرٹیفکیٹ لینے سے انکار کر دیا،تب پرو وائس چانسلر وپن شریواستو آگے آکر سنکننا کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی۔سنکننا اور ویملا ان پانچ طالب علموں میں شامل تھے جنہیں تادیبی بنیاد پر گزشتہ سال یونیورسٹی کے ہاسٹل سے نکال دیا گیا تھا،بعد میں ان کی یہ معطلی منسوخ کر دی گئی۔اس سال جنوری میں یونیورسٹی کیمپس میں واقع ہاسٹل کے ایک کمرے میں ویمولا کی لاش چھت سے لٹکی پائی گئی تھی۔واقعہ نے پورے ملک میں غم و غصہ پیدا کر دیا اور یونیورسٹی کے طالب علموں نے پوڈلے کے اخراج کا مطالبہ کرتے ہوئے وسیع احتجاج کیا۔اس وقت آئی آئی ٹی ممبئی سے فلسفہ موضوع میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کر رہے سنکننا نے کہا کہ میں نے(ویمولا خودکشی کیس میں وائس چانسلر کے کردار کو لے کر)احتجاجی طور پر ان سے اپنا سرٹیفکیٹ لینے سے انکار کر دیا۔ویمولا کی موت کے بعد یونیورسٹی کے طالب علموں ، سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے وائس چانسلر اور کچھ دوسرے لوگوں کو اس کی خود کشی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔پوڈلے نے رابطہ کئے جانے پر واقعہ کو طول نہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے سرٹیفکیٹ لینا نہ لینا طالب علم کی مرضی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ان کی مرضی ہے،اسے لے کر زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔